24-Nov-2022 لیکھنی کی کہانی -
ملائم سنگھ یادو : لوہیا کے جانشین !!! قسط اول
بقلم : م شین غازیؔ
shuaibghazi1640@gmail.com
ملائم سنگھ یادو ، ہریانہ کے گرو گرام (گڑ گاؤں) میں واقع غیر رسمی ” میدانتا ہسپتال “ میں عرصۂ دراز سے زیرِ علاج تھے ۔ مسلسل ان کی طبیعت میں اتار چڑھاؤ ہو رہا تھا ۔ انھیں کبھی انتہائی نگہداشت یونٹ ( Intensive Care Unit ) اور کبھی Coronary Care Unit ( مریضانِ دل کی اکائی) میں رکھا گیا ۔ تاہم یادو جی جاں بر نہ ہوسکے ۔ 10/اکتوبر 2022ء میں وقتِ صبح انھوں نے دنیائے فانی کو الوداع کہہ دیا ۔ ان کی موت کی خبر عام ہوتے ہی ملک بالخصوص اترپردیش اندوہ گیں ہوگئی ۔ ریاستی بی جے پی حکومت(21/ویں وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ ، 5/جون 1972ء ، گڑھوال) نے سہ روزہ سوگ کا اعلان کیا اور جاری اعلامیہ میں انہوں نے کہا کہ سرکاری اعزاز کے ساتھ یادو جی کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی ۔ پارٹی لیڈران اور کارکنان نے نمناک آنکھوں سے پارٹی دفتر لکھنؤ میں ان کے جسدِ خاکی پر پھول مالاچڑھا کر انھیں خراج عقیدت پیش کیا ۔11/اکتوبر میں اپنے قائد کا آخری دیدار کرنے کے لیے اٹاوہ میں ان کے آبائی گاؤں سیفئی کے میلہ گراؤنڈ میں عوام کا جمِ غفیر امڈ آیا ۔ رقت آمیز منظر ہے۔ آنکھیں اشک بار ، دل افسردہ ، زبانیں گنگ اور قدم لڑکھڑا رہے ہیں ۔ یادو جی کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا ۔ خاندانی شمسان گھاٹ میں آبدیدہ آنکھوں سے اکھلیش یادو نے اپنے والد کو نذرِ آتش(مکھ اگنی) دی ۔ ملک کی دینی ، ملی ، سیاسی شخصیات نے بالمشافہ اور تحریراً یادو جی کو خراج تحسین اور اکھلیش یادو کو تعزیت پیش کی ۔
ملائم سنگھ یادو عظیم اشتراکی رہنما ، ہر دل عزیز سیاست دان ، سماج کے محروم طبقات کی آواز ، اقلیتوں کے مسیحا ، ان کے آئینی حقوق ، فلاح و بہبود ، تعمیر و ترقی کے امین ، کسان طبقہ کے حامی اور ملکی آئینی اقدار کے نگہبان ، ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کے مکتبِ فکر کے طالبِ علم تھے ۔ ہندو معاشرہ کی پس ماندہ برادری ” یادو“ کے فرزند خلف تھے ۔ ان کے والد سگھر سنگھ یادو کسان تھے ۔ 22/ نومبر 1939ء میں ملائم کی ولادت ہوئی تھی ۔ ان کے والد کا خواب تھا کہ ان کا بیٹا کشتی کے میدان کا ہی ہو کر رہ جائے ۔ تاہم ، قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔
ملائم کی ازدواجی زندگی کی ابتدا 1957ء سے ہوتی ہے ، جب ان کی عمر محض 18/برس تھی اور وہ اس وقت دسویں جماعت میں تھے ۔ 14/سالہ مالتی دیوی کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھ گیے ۔ 1943ء میں ضلع اٹاوہ کے رائے پور گاؤں میں مالتی پیدا ہوئی تھی ۔ یکم جولائی 1973ء میں اکھلیش کو جنم دیا ۔ 24/مئی 2003ء میں دل کا دورہ پڑنے کے سبب قفسِ عنصری سے ان کی روح پرواز کرگئی ۔
1987ء کے بعد ملائم عشقِ بتاں کے چکر میں پڑ گیے ۔ جب سادھنا گپتا سے ان کی آنکھیں چار ہوگئیں ۔ برقِ نگاہِ سادھنا ملائم کا کام کر گئی ۔ احساس بھی نہ ہوا کہ کب یہ رسمی ملاقات قربت میں بدل گئی ۔ ”عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے “ ایک بار پھر یہ ضرب المثل سچ ثابت ہوئی ۔ ملائم مئے عشق کے جام پر جام چڑھانے لگے ۔ ایوانوں میں ان کی داستان عشق کے چرچے ہونے لگے ۔ سادھنا نے 1960ء میں اٹاوہ ضلع کی تحصیل بدھونا میں آنکھیں کھولیں ۔ ان کی اولین شادی 6/جولائی 1986ء میں فرخ آباد کے چندر پرکاش سے ہوئی تھی ۔ لیکن ان میں نباہ نہ ہوسکا اور علیحدگی ہوگئی ۔ اس کے بعد سادھنا ملائم کے رابطہ میں آئی ۔ سنیتا ایرن کی دیوناگری رسم الخط میں ” بدلاؤ کی لہر “ کئی برس پہلے منظر عام پر آئی تھی ۔ یہ کتاب اکھلیش یادو کی سوانح حیات ہے ۔ اس میں سادھنا گپتا کا تفصیلی ذکر ملتا ہے ۔ سنیتا ایرن نے لکھا ہے کہ سادھنا نے Nursing (تیمارداری) کا کورس کیا تھا ۔ کسی نرسنگ ہوم میں خدمات پر مامور تھی ۔ ملائم کی والدہ مرتی دیوی اکثر و بیشتر بیمار رہتی تھی ۔ اسپتال میں مرتی دیوی کی تیمارداری کا فریضہ سادھنا ہی سرانجام دے رہی تھی ۔ مالتی دیوی کی فوتگی کے بعد ملائم نے سادھنا کو ثانی شریک حیات کا درجہ دیا تھا ۔ 10/جولائی 2022ء میں چل بسی ۔ ملائم اپنے محبوب کی جدائی کا درد نہ سہہ سکے اور بسترِ مرگ پر جا لگے ۔
shuaibghazi1640@gmail.com
Muskan Malik
26-Nov-2022 11:10 AM
👌👌
Reply